ممبئی19جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مسلم نوجوانوں کو قانونی امدادفراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علمائے مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو آج اس وقت ایک بار پھر کامیابی حاصل ہوئی جب کرناٹک کے شہربلاری کی نچلی عدالت نے تین مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کردیا۔استغاثہ نے ملزمین پرموٹربائیک چوری کا الزام عائد کیا تھا جسے وہ بم دھماکوں میں استعمال کرنا چاہتے تھے ۔
یہ اطلاع آج ممبئی میں جمعیۃ علمائے مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی ۔گلزارا عظمی کے مطابق آج دوپہربعدبلاری کی فرسٹ کلاس جوڈیشیل مجسٹریٹ کارتیان میڈم نے ملزمین اسعد اللہ عبدالرزاق، رضی الدین ناصر ار شکیل مالی کو تعزیرات ہند کی دفعہ 379 سے نا کافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر باعزت بری کردیا ۔جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ محبوب پاشانے کامیاب پیروی کی ۔
گلزارا عظمی نے مزید بتایا کہ باعزت بری کیئے گئے تینوں مسلم نوجوان احمد آباد میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکہ بنام انڈین مجاہدین معاملے کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ فی الحال احمد آباد کی سابرمتی جیل میں مقیدہیں جن کے مقدمات کی پیروی کے لیئے جمعیۃ علماء نے وکلاء کا انتظام کیاہواہے۔ نیزمقدمہ کی سماعت ہفتہ میں چارروزہوتی ہے جس میں اب تک گیارہ سو گواہان نے اپنا بیان درج کرایا ہے۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ تحقیقاتی دستہ نے ملزمین پر بائیک چور ی کرنے کا الزام عائد کرکے اسے دہشت گردانہ واقع سے جوڑنے کی کوشش کی تھی ، اب جبکہ ملزمین بائیک چوری مقدمہ سے باعزت بری ہوچکے ہیں ، یقیناًانہیں اس کا فائدہ احمد آباد مقدمہ میں ہوگا۔مقدمہ سے باعزت بری کیئے جانے کے بعد ملزم اسعد اللہ کے والد عبدالرزاق نے کہاہے کہ آج یہ بات ثابت ہوگئی کہ ان کے لڑکے کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایاگیاتھا نیز اس فیصلہ کا اثر احمد آباد بم دھماکہ مقدمہ پر بھی پڑے گا کیونکہ اسی مقدمہ کی بنیاد پر ان کے فرزندکواحمدآبادمقدمہ میں ماخوذکیاگیاہے۔عبدالرزاق نے بتایا کہ ان کے فرزند اسعد اللہ کے خلاف کرناٹک کے تین شہروں ہبلی، بیلگام اوربیلاری میں مقدمات قائم کیئے گئے تھے جس سے وہ بری ہوچکا ہے اب صرف احمد آباد کا مقدمہ بچا ہے، انشاء اللہ وہاں سے بھی وہ باعزت بری ہوگا۔